EN हिंदी
پہلے سی اب بات کہاں ہے | شیح شیری
pahle si ab baat kahan hai

غزل

پہلے سی اب بات کہاں ہے

حسن رضوی

;

پہلے سی اب بات کہاں ہے
وہ دن اور وہ رات کہاں ہے

باتیں جیسے پت جھڑ پت جھڑ
سوچوں کی بارات کہاں ہے

سارے موسم ایک ہوئے ہیں
وہ رت وہ برسات کہاں ہے

اس کا چہرہ جیسے سرسوں
آنکھوں میں وہ بات کہاں ہے

اک شب میں نے ہی پوچھا تھا
اے رب تیری ذات کہاں ہے

قریہ قریہ جو لہرایا
وہ پرچم وہ ہات کہاں ہے

میں بادل تو صحرا رضویؔ
تیرا میرا سات کہاں ہے