EN हिंदी
پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں | شیح شیری
pahaDon ki bulandi par khaDa hun

غزل

پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں

سلیمان خمار

;

پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں
زمیں والوں کو چھوٹا لگ رہا ہوں

ہر اک رستے پہ خود کو ڈھونڈھتا ہوں
میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں

بھرے شہروں میں دل ڈرنے لگا تھا
اب آ کر جنگلوں میں بس گیا ہوں

تو ہی مرکز ہے میری زندگی کا
ترے اطراف مثل دائرہ ہوں

اجالے جب سے کترانے لگے ہیں
سیہ راتوں کا ساتھی بن گیا ہوں

مراہم شکل کب کا مر چکا ہے
مجھے مت چھیڑئیے میں دوسرا ہوں