پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے
روتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنے
عشاق کے احوال پہ کیا اس کو نظر ہے
وہ آپ دوانہ ہے خط و خال پر اپنے
تحسین عمل کب اسے منظور ہے اے شیخ
نظریں جو کرے آپ ہی اعمال پر اپنے
کس طرح سے میں پیر کروں عشق کا دعویٰ
پھبتی نہیں یہ بات سن و سال پر اپنے
غزل
پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے
جوشش عظیم آبادی

