EN हिंदी
پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے | شیح شیری
paDti hai nazar jab ki par-o-baal par apne

غزل

پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے

جوشش عظیم آبادی

;

پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے
روتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنے

عشاق کے احوال پہ کیا اس کو نظر ہے
وہ آپ دوانہ ہے خط و خال پر اپنے

تحسین عمل کب اسے منظور ہے اے شیخ
نظریں جو کرے آپ ہی اعمال پر اپنے

کس طرح سے میں پیر کروں عشق کا دعویٰ
پھبتی نہیں یہ بات سن و سال پر اپنے