EN हिंदी
پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے | شیح شیری
pas-e-adab tere husn ka karte karte

غزل

پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے

عشق اورنگ آبادی

;

پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے
تجھ کو دیکھا بھی کبھی ہوں گا تو ڈرتے ڈرتے

مستعد ہو کے مرے قتل پہ آیا جلاد
میں نے یہ شعر پڑھا درد سے مرتے مرتے

بارے صد شکر خدا کا کہ بر آئی امید
آرزو آج کی یک عمر سے کرتے کرتے

سرد مہروں سیتی پالا نہ پڑا تھا سو پڑا
ہو گئے سرد دم سرد کے بھرتے بھرتے

منزل عشق نہ طے ہووی بقول سوداؔ
مل گئے خاک میں یاں پاؤں کے دھرتے دھرتے