EN हिंदी
پاس اپنے اک جان ہے سائیں | شیح شیری
pas apne ek jaan hai sain

غزل

پاس اپنے اک جان ہے سائیں

رسا چغتائی

;

پاس اپنے اک جان ہے سائیں
باقی یہ دیوان ہے سائیں

جس کا کوئی مول نہ گاہک
کیسی یہ دوکان ہے سائیں

آنسو اور پلک تک آئے
آنسو اگنی بان ہے سائیں

جوگی سے اور جگ کی باتیں
جوگی کا اپمان ہے سائیں

میں جھوٹا تو دنیا جھوٹی
میرا یہ ایمان ہے سائیں

جیسا ہوں جس حال میں ہوں میں
اللہ کا احسان ہے سائیں