EN हिंदी
پانیوں میں راستہ شعلوں میں گھر دیکھے گا کون | شیح شیری
paniyon mein rasta shoalon mein ghar dekhega kaun

غزل

پانیوں میں راستہ شعلوں میں گھر دیکھے گا کون

قمر صدیقی

;

پانیوں میں راستہ شعلوں میں گھر دیکھے گا کون
اے گمان خوش نظر اب کے ادھر دیکھے گا کون

چشم پر نم سوز دل اپنی جگہ لیکن یہاں
موسم سر سبز میں رقص شرر دیکھے گا کون

اس صدی سے اس صدی تک رشتے ناطے دوستی
پیچھے کیا کیا رہ گیا ہے لوٹ کر دیکھے گا کون

درہم و دینار ہیں انعام ہجرت کا مگر
گھر سے گر سب ہی چلے جائیں تو گھر دیکھے گا کون