EN हिंदी
پانی کا عجب طور تھا پانی سے نکل کر | شیح شیری
pani ka ajab taur tha pani se nikal kar

غزل

پانی کا عجب طور تھا پانی سے نکل کر

جاوید شاہین

;

پانی کا عجب طور تھا پانی سے نکل کر
سیلاب کی صورت تھا روانی سے نکل کر

سننے کو جو بیٹھے ہیں انہیں کیسے بتاؤں
کردار کوئی گم ہے کہانی سے نکل کر

کہنی ہے کوئی بات تو کہہ سیدھی زباں میں
الفاظ کے پر پیچ معانی سے نکل کر

زندانی الفت ہے کہاں آج زمانہ
یہ دیکھ کسی یاد پرانی سے نکل کر

تکتا رہا تیزی سے بدلتے ہوئے منظر
پھرتا رہا میں یاد سہانی سے نکل کر

بھر رکھا تھا خوش بو نے مرے صحن کو شاہیںؔ
کونے میں کھلی رات کی رانی سے نکل کر