EN हिंदी
پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ | شیح شیری
pa-shikaston ko jab jab milenge aap

غزل

پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ

جلالؔ لکھنوی

;

پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ
سر راہ طلب ملیں گے آپ

ان سے پوچھا کہ کب ملیں گے آپ
بولے جب جاں بلب ملیں گے آپ

دل یہ کہہ کر خبر کو اس کی چلا
مجھ کو زندہ نہ اب ملیں گے آپ

عرصۂ حشر عید گاہ ہوا
سب سے مل لیں گے جب ملیں گے آپ

وصل میں بھی جبیں پہ ہوگی شکن
توڑنے کو غضب ملیں گے آپ

بے خودوں کو تلاش سے کیا کام
ہر جگہ بے طلب ملیں گے آپ

چھوڑ دی رخ پہ زلف سمجھے ہم
چھپ کے ایک آدھ شب ملیں گے آپ

چھیڑ مطرب ترانۂ شب وصل
ساز عیش و طرب ملیں گے آپ

یار جب مل گیا تو ہم سے جلالؔ
جو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ