EN हिंदी
نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو | شیح شیری
nit ji hi ji mein ishq ke sadme uThaiyo

غزل

نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو

مرزا محمد تقی ہوسؔ

;

نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو
شکوے کی بات منہ پہ ہوسؔ تم نہ لائیو

شوق ان دنوں ہوا ہے اسے داستان کا
یارو کوئی مری بھی کہانی سنائیو

رہنے دے میری خاک تو اس در پہ اے صبا
مشت غبار خستہ‌ دلاں مت اٹھائیو

جی کو یقیں ہے حشر میں ڈھونڈوں‌ گا میں تجھے
ظالم وہاں تو مجھ سے نہ مکھڑا چھپائیو

اس میں زیاں ہے جان کا سنتا ہے اے ہوسؔ
زنہار بار عشق نہ سر پر اٹھائیو