نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو
شکوے کی بات منہ پہ ہوسؔ تم نہ لائیو
شوق ان دنوں ہوا ہے اسے داستان کا
یارو کوئی مری بھی کہانی سنائیو
رہنے دے میری خاک تو اس در پہ اے صبا
مشت غبار خستہ دلاں مت اٹھائیو
جی کو یقیں ہے حشر میں ڈھونڈوں گا میں تجھے
ظالم وہاں تو مجھ سے نہ مکھڑا چھپائیو
اس میں زیاں ہے جان کا سنتا ہے اے ہوسؔ
زنہار بار عشق نہ سر پر اٹھائیو
غزل
نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو
مرزا محمد تقی ہوسؔ

