EN हिंदी
نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم | شیح شیری
nikal ke ghar se phir is tarah ghar gae hum tum

غزل

نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم

شاہین غازی پوری

;

نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم
خود اپنی راکھ اڑاتے بکھر گئے ہم تم

زمانہ اپنی ادا کاریوں پہ نازاں تھا
اور اپنے آپ پہ الزام دھر گئے ہم تم

اسے کہو غم تاراجیٔ چمن ہو اسے
حد بہار و خزاں سے گزر گئے ہم تم

کبھی جہاں کے مقابل رہے تن تنہا
کبھی خود اپنی ہی آہٹ سے ڈر گئے ہم تم