نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم
خود اپنی راکھ اڑاتے بکھر گئے ہم تم
زمانہ اپنی ادا کاریوں پہ نازاں تھا
اور اپنے آپ پہ الزام دھر گئے ہم تم
اسے کہو غم تاراجیٔ چمن ہو اسے
حد بہار و خزاں سے گزر گئے ہم تم
کبھی جہاں کے مقابل رہے تن تنہا
کبھی خود اپنی ہی آہٹ سے ڈر گئے ہم تم
غزل
نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم
شاہین غازی پوری

