نکال ذات سے باہر نکال تنہائی
کمال جب ہے کہ شعروں میں ڈال تنہائی
عذاب جاں بھی جہاں میں نہیں کوئی ایسا
رفیق بھی ہے بڑی بے مثال تنہائی
تمام زندگی دو واقعات میں یوں ہے
عروج اس کی رفاقت زوال تنہائی
کوئی بھی وقت ہو تیرا ہی ذکر کرتی ہے
کبھی تو پوچھے ہمارا بھی حال تنہائی
اگرچہ شہر میں بکھری ہے جا بجا پھر بھی
شجاعؔ اپنے لیے گھر میں پال تنہائی
غزل
نکال ذات سے باہر نکال تنہائی
شجاع خاور

