EN हिंदी
نیلے پیلے سیاہ سرخ سفید سب تھے شامل اسی تماشے میں | شیح شیری
nile pile siyah surKH safed sab the shamil isi tamashe mein

غزل

نیلے پیلے سیاہ سرخ سفید سب تھے شامل اسی تماشے میں

شمیم حنفی

;

نیلے پیلے سیاہ سرخ سفید سب تھے شامل اسی تماشے میں
یورش رنگ نے ذلیل کیا آنکھ گم ہو گئی تماشے میں

کوئی بھی ان میں چارہ ساز نہ تھا سبھی بیمار جستجو نکلے
تم ہی سوچو کہ بے دلی کس سے راستہ پوچھتی تماشے میں

جسم کا سونا روپ کی چاندی کون سا دھن کسی کے پاس رہا
ایک میرا تمہارا قصہ کیا ساری دنیا لٹی تماشے میں

چاند تھا ساحل نفس کے قریب ایک دن میرے دل میں ڈوب گیا
صبح کا راز رائیگاں ٹھہرا شام بھی گھل گئی تماشے میں

کبھی دریا کے ساتھ ساتھ بڑھے کہیں ٹھٹھکے کہیں نظر نہ اٹھی
ایک عمر رواں تھی جی کا زیاں سو گزرتی رہی تماشے میں

ایک شعلہ ہوس کا بس میں نہ تھا آپ اپنے سے ہاتھ دھو بیٹھے
خاک آغاز خاک ہی انجام آگ ایسی لگی تماشے میں