EN हिंदी
نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے | شیح شیری
nibhegi kis tarah dil sochta hai

غزل

نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے

فضیل جعفری

;

نبھے گی کس طرح دل سوچتا ہے
عجب لڑکی ہے جب دیکھو خفا ہے

بہ ظاہر ہے اسے بھی پیار ویسے
دلوں کے بھید سے واقف خدا ہے

یہ تنہائی کا کالا سرد پتھر
اسی سے عمر بھر سر پھوڑنا ہے

مگر اک بات دونوں جانتے ہیں
نہ کچھ اس نے نہ کچھ ہم نے کہا ہے

نہیں ممکن اگر ساتھ عمر بھر کا
یہ پل دو پل کا ملنا کیا برا ہے

گھنے جنگل میں جیسے شام اترے
کوئی یوں جعفریؔ یاد آ رہا ہے