EN हिंदी
نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں | شیح شیری
nazron se ghubar chhaT gae hain

غزل

نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں

صوفی تبسم

;

نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں
چہروں سے نقاب الٹ گئے ہیں

فرقت کے طویل راستے تھے
یادوں سے تری سمٹ گئے ہیں

جس رہ پہ پڑے ہیں تیرے سائے
اس راہ سے ہم لپٹ گئے ہیں

دن کیسے کٹھن تھے زندگی کے
کیا جانیے کیسے کٹ گئے ہیں

تقسیم ہوئے تھے کچھ نصیبے
کیا کہیے کہاں پہ بٹ گئے ہیں

ابھرے تھے بھنور سے کچھ سفینے
کیا جانے کہاں الٹ گئے ہیں