EN हिंदी
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں | شیح شیری
nazar mila ke zara dekh mat jhuka aankhen

غزل

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں

محسنؔ بھوپالی

;

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں
بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں

جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا
دل آئینہ ہے مگر دل کا آئنا آنکھیں

وہ اک ستارہ تھا جانے کہاں گرا ہوگا
خلا میں ڈھونڈ رہی ہیں نہ جانے کیا آنکھیں

غم حیات نے فرصت نہ دی ٹھہرنے کی
پکارتی ہی رہی ہیں مجھے سدا آنکھیں

یہ اس کا طرز تخاطب بھی خوب ہے محسنؔ
رکا رکا سا تبسم خفا خفا آنکھیں