EN हिंदी
نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی | شیح شیری
nazar kar tez hai taqdir miTTi ki ki patthar ki

غزل

نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی

رشید لکھنوی

;

نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی
بتوں کو دیکھ ہیں تصویر مٹی کی کہ پتھر کی

کیا تو نے بتوں کو سجدہ آدم کو فرشتوں نے
برہمن ہے سوا توقیر مٹی کی کہ پتھر کی

میں پتلا سخت جانی کا ہوں یا گرد کدورت کا
نہیں معلوم ہوں تصویر مٹی کی کہ پتھر کی

غموں پر خاک ڈالوں میں کہ روکوں جوش وحشت کو
تردد ہے کروں تدبیر مٹی کی کہ پتھر کی