نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں
میں آدمی ہوں کہاں آدمی کا پیکر ہوں
رہا جو بھیڑ میں بھی مشفقوں کی سرافراز
خدا گواہ میں ویسا ہی ایک مصدر ہوں
سفینہ کوئی سلامت نہ رہ سکے گا اب
قسم خدا کی میں بپھرا ہوا سمندر ہوں
یہ اور بات کہ تم کو میں یاد آ نہ سکا
وگرنہ آج بھی محفل میں ہر زباں پر ہوں
تھی میری ذات کبھی کائنات کا محور
حصار ذات میں لیکن میں آج ششدر ہوں
دلوں کے بند دریچے بھی جس سے کھل جائیں
جو پڑھ سکو تو پڑھے جاؤ میں وہ منتر ہوں
جو پڑھ سکے نہ مرا چہرہ بھی وہ خودبیں تم
جو درد لمحوں کا سمجھے میں وہ قلندر ہوں
غزل
نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں
علقمہ شبلی