نواح شوق میں ہے اک دیار نکہت گل
زمیں پہ گل ہیں فضا میں غبار نکہت گل
یہ شہر گل بدناں سیر گاہ حسن تمام
کہیں ہے نہر کہیں آبشار نکہت گل
نسیم صبح بھی لیتی ہے یاں پہ اذن خرام
ہے یہ مقام مقام قرار نکہت گل
گماں یہ ہے کہیں دیوار رنگ ٹوٹ نہ جائے
حصار رنگ پہ ہے وہ فشار نکہت گل
یہاں کے مرغ خوش الحان و مہر زر افشاں
ہیں نور و نغمہ یہاں ہمکنار نکہت گل
یہاں کی قوس قزح کو ملا ہے اذن دوام
بہار رنگ دلیل بہار نکہت گل
افق پہ نور کا دریا ہے رنگ کی کشتی
ہے انتظار میں کس کے نگار نکہت گل
کسے خبر ہے کہ باقرؔ فدائے حسن بہار
یہیں کہیں ہے غریب دیار نکہت گل

غزل
نواح شوق میں ہے اک دیار نکہت گل
سجاد باقر رضوی