EN हिंदी
نقش ماضی کے جو باقی ہیں مٹا مت دینا | شیح شیری
naqsh mazi ke jo baqi hain miTa mat dena

غزل

نقش ماضی کے جو باقی ہیں مٹا مت دینا

اقبال عظیم

;

نقش ماضی کے جو باقی ہیں مٹا مت دینا
یہ بزرگوں کی امانت ہے گنوا مت دینا

وہ جو رزاق حقیقی ہے اسی سے مانگو
رزق برحق ہے کہیں اور صدا مت دینا

بھیک مانگو بھی تو بچوں سے چھپا کر مانگو
تم بھکاری ہو کہیں ان کو بتا مت دینا

صبح صادق میں بہت دیر نہیں ہے لیکن
کہیں عجلت میں چراغوں کو بجھا مت دینا

میں نے جو کچھ بھی کہا صرف محبت میں کہا
مجھ کو اس جرم محبت کی سزا مت دینا