نہیں رہے گا ہمیشہ غبار میرے لیے
کھلیں گے پھول سر رہ گزار میرے لیے
کبھی تو ہوگی کسی کو مری کمی محسوس
کبھی تو ہوگا کوئی سوگوار میرے لیے
ترس گئے تھے مرے لب ہنسی کو جس کے سبب
ہوا ہے آج وہی اشک بار میرے لیے
وہ میرے قرب سے محروم ہی رہے شاید
وہ منتظر ہے سمندر کے پار میرے لیے
مری تلاش میں ہوگا مرا نصیب کبھی
وہ وقت لائے گا پروردگار میرے لیے

غزل
نہیں رہے گا ہمیشہ غبار میرے لیے
سریندر شجر