نہیں آرام ایک جا دل کو
آہ کیا جانے کیا ہوا دل کو
اے بتاں محترم رکھو اس کو
کہتے ہیں خانۂ خدا دل کو
لے تو جاتے ہو مہرباں لیکن
کیجو مت آپ سے جدا دل کو
منہ نہ پھیرا کبھی جفا سے تری
آفریں دل کو مرحبا دل کو
یہ توقع نہ تھی ہمیں ہرگز
کہ دکھاؤ گے یہ جفا دل کو
ہیں یہی ڈھنگ آپ کے تو خیر
کیوں نہ پھر دیجئے گا آ دل کو
آخر اس طفل شوخ نے دیکھا
ٹکڑے جوں شیشہ کر دیا دل کو
آج لگتی ہے کچھ بغل خالی
کون سینے سے لے گیا دل کو
ہم تو کہتے ہیں تجھ کو اے بیدارؔ
کیجو مت اس سے آشنا دل کو
غزل
نہیں آرام ایک جا دل کو
میر محمدی بیدار

