EN हिंदी
نفس نفس نے اڑائیں ہوائیاں کیا کیا | شیح شیری
nafas nafas ne uDain hawaiyan kya kya

غزل

نفس نفس نے اڑائیں ہوائیاں کیا کیا

حنیف اخگر

;

نفس نفس نے اڑائیں ہوائیاں کیا کیا
برنگ عشق ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا

ہمیں نے عشق کو حسن انا کا رنگ دیا
ہمیں پہ عشق میں آئیں برائیاں کیا کیا

مرے تقدس ایماں سے کھیلتی ہی رہیں
تری نگاہ کی کافر ادائیاں کیا کیا

سکوں گرفتہ نہ دل ہی نہ آنکھ خوں بستہ
تمام عمر رہیں نارسائیاں کیا کیا

جدائیوں سے بھی عقدے رفاقتوں کے کھلے
رفاقتوں میں بھی آئیں جدائیاں کیا کیا

ہے آہ ایک غزل اشک اک قصیدہ ہے
نہاں ہیں غم میں بھی نغمہ سرائیاں کیا کیا

رفیق مجھ سا کہیں پائے گی نہ اے اخگرؔ
مچائے گی شب ہجراں دہائیاں کیا کیا