ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر
میں بھی نازاں ہوں ترا عاشق شیدا ہو کر
میں نہ سمجھا تھا کہ اشکوں سے اٹھے گا طوفاں
چند قطروں نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر
چشم بیمار جو پہلے تھی وہی اب بھی ہے
کچھ بنائے نہ بنی تم سے مسیحا ہو کر
کس کے رخسار دم سیر چمن یاد آئے
پھول آنکھوں میں کھٹکنے لگے کانٹا ہو کر
درد تھا دل میں تو جینے کا مزہ ملتا تھا
اب تو بیمار سے بدتر ہوں میں اچھا ہو کر
دام سے چھوٹ کے بھی میری اسیری نہ گئی
زلف صیاد گلے پڑ گئی پھندا ہو کر
چھپ کے رہنا ہے جو سب سے تو یہ مشکل کیا ہے
تم مرے دل میں رہو دل کی تمنا ہو کر
کیا ستم ہے شب وعدہ وہ حنا ملتے ہیں
رنگ لائے نہ کہیں خون تمنا ہو کر
دہن یار کی تعریف جو کی میں نے جلیلؔ
اڑ گیا طائر مضموں مرا عنقا ہو کر
غزل
ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر
جلیلؔ مانک پوری

