EN हिंदी
نالے میں کبھی اثر نہ آیا | شیح شیری
nale mein kabhi asar na aaya

غزل

نالے میں کبھی اثر نہ آیا

بیخود بدایونی

;

نالے میں کبھی اثر نہ آیا
اس نخل میں کچھ ثمر نہ آیا

اللہ ری میری بے قراری
چین ان کو بھی رات بھر نہ آیا

کہتا ہوں کہ آ ہی جائے گا صبر
یہ فکر بھی ہے اگر نہ آیا

غفلت کے پڑے ہوئے تھے پردے
وہ پاس رہا نظر نہ آیا

آنکھوں سے ہوا جو کوئی اوجھل
بیخودؔ مجھے کچھ نظر نہ آیا