EN हिंदी
ناکام نشاط عیش و خوشی ہر وقت کے رنج و غم نے کیا | شیح شیری
nakaam-e-nashat-e-aish-o-KHushi har waqt ke ranj-o-gham ne kiya

غزل

ناکام نشاط عیش و خوشی ہر وقت کے رنج و غم نے کیا

نوح ناروی

;

ناکام نشاط عیش و خوشی ہر وقت کے رنج و غم نے کیا
جو تم نے کہا وہ دل نے کیا جو دل نے کہا وہ ہم نے کیا

یہ حال ہے میرے مرقد کا عالم ہے یہ میرے مدفن پر
صرصر نے کسی دن جھاڑو دی چھڑکاؤ کبھی شبنم نے کیا

فرقت میں ہزاروں ظلم سہے الفت میں ہزاروں رنج دئے
کیا ہم نے کیا کیا تم نے کیا یہ تم نے کیا وہ ہم نے کیا

آنکھوں سے بہے مٹی میں ملے احباب کو پروا کچھ نہ ہوئی
ماتم مرے اک اک آنسو کا مژگاں کی صف ماتم نے کیا

اب کوئی اسے فریاد کہے یا کوئی اسے شکوہ سمجھے
ہم کو جو ستایا بندوں نے تو شکر خدا کا ہم نے کیا

یوں آپ بگڑنے کو بگڑیں لیکن یہ ذرا سوچیں سمجھیں
کیا صرف ہمیں نے عشق کیا دنیا نے کیا عالم نے کیا

یہ تم نے کیا یہ تم نے سنا یہ تم نے کہا یہ کون کہے
وہ پوچھتے ہیں کیا ہم نے کہا کیا ہم نے سنا کیا ہم نے کیا

حسرت کو بھی حسرت آتی ہے عبرت کو بھی عبرت آتی ہے
وہ شکل ہماری غم میں ہوئی یہ حال ہمارا غم نے کیا

دنیا کو ڈبویا اشکوں سے طوفان اٹھایا رو رو کر
دریائے غم الفت میں بپا اے نوحؔ تلاطم ہم نے کیا