نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے
ہوا اک راز رہنا چاہتی ہے
نہ جانے کیا سمائی ہے کہ اب کی
ندی ہر سمت بہنا چاہتی ہے
سلگتی راہ بھی وحشت نے چن لی
سفر بھی پا برہنہ چاہتی ہے
تعلق کی عجب دیوانگی ہے
اب اس کے دکھ بھی سہنا چاہتی ہے
اجالے کی دعاؤں کی چمک بھی
چراغ شب میں رہنا چاہتی ہے
بھنور میں آندھیوں میں بادباں میں
ہوا مصروف رہنا چاہتی ہے
غزل
نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے
منظور ہاشمی

