نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے
جو خواب دیکھنے والوں کا حال ہوتا ہے
لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہے
اور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے
جب آئی شام مسافت تو پھر یہ راز کھلا
ذرا سی دیر عروج و زوال ہوتا ہے
ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک دنیا ہے
کہاں کسی کو کسی کا خیال ہوتا ہے
ہر ایک اوج محبت پہ آ نہیں سکتا
کسی کسی میں ہی ایسا کمال ہوتا ہے
رکی ہوئی ہوں اک ایسے سوال پر شبنمؔ
جواب جس کا ہمیشہ محال ہوتا ہے
غزل
نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے
شبنم شکیل

