نہ خواہش ہے گدائی کی نہ ہے ارمان شاہی کا
الٰہی عشق دے بندے کو محبوب الٰہی کا
اگر رکھے ترے کوچے کی سرحد سے قدم باہر
گماں پھر خضر پر لے جائیں ہم گم کردہ راہی کا
یہاں تو داغ خوں دامن سے دھویا تو نے اے حامل
وہاں اک دن کھلے گا گل ہماری بے گناہی کا
بہت عاشق تو مقتول نگاہ و غمزہ ہیں لیکن
یہ تیرا نیم جاں بسمل ہے تیری کم نگاہی کا
غلامی خسروؔ دہلی کی ہے معروفؔ فخر اپنا
کہ ہم عاشق ہے ہم معشوق محبوب الٰہی کا
غزل
نہ خواہش ہے گدائی کی نہ ہے ارمان شاہی کا
معروف دہلوی

