نہ خالی ذہن یوں دنیا کا رہ جائے
کہ سارا کام نقش پا کا رہ جائے
زمینوں پر نہ یوں قبضہ کریں شہر
کوئی تو راستہ صحرا کا رہ جائے
مرے بارے میں لہریں کچھ بھی سوچیں
میں کہتا ہوں بھرم دریا کا رہ جائے
جو راہ جاں میں ظاہر نقش جاں ہو
سفر آدھا سفر پیما کا رہ جائے
نمود زخم کم اور یہ تمنا
قفس ہو کر قفس آرا کا رہ جائے
الگ ہی اس کا نغمہ ہے شجر پر
قیام اس طائر تنہا کا رہ جائے
غزل
نہ خالی ذہن یوں دنیا کا رہ جائے
محشر بدایونی

