نہ کہو اعتبار ہے کس کا
بے وفائی شعار ہے کس کا
اے اجل شام ہجر آ پہنچی
اب تجھے انتظار ہے کس کا
عشق سے میں خبر نہیں یا رب
داغ دل یادگار ہے کس کا
دل جو ظالم نہیں تری جاگیر
تو یہ اجڑا دیار ہے کس کا
محتسب پوچھ مے پرستوں سے
نام آمرزگار ہے کس کا
بزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ
دیکھنا ناگوار ہے کس کا
پہنے پھرتا ہے ماتمی پوشاک
آسماں سوگوار ہے کس کا
چین سے سو رہو گلے لگ کر
شوق بے اختیار ہے کس کا
آپ سا سب کو وہ سمجھتے ہیں
معتبر انکسار ہے کس کا
یار کے بس میں ہے امید وصال
یار پر اختیار ہے کس کا
آپ بیمارؔ ہم ہوئے رسوا
سرنگوں رازدار ہے کس کا
غزل
نہ کہو اعتبار ہے کس کا
شیخ علی بخش بیمار