نہ جانے روزن دیوار کیا جادو جگاتا ہے
تلطف سے سنبھلتا ہے قدم یا ڈگمگاتا ہے
یہ تمہید نگاہ شوق ہے دو آتشہ اے دل
اس عالم میں اک عالم اور آئینہ دکھاتا ہے
کہاں کا عشق لیکن یہ مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ میرا ہاتھ دوش نازنیں پر تھرتھراتا ہے
کہاں پہلے تھا یہ موسم ہے سب طرز خرام اس کا
ہواؤں میں گلابی باغ میں خوشبو اڑاتا ہے
مزاجوں کی ہم آہنگی بھی اکثر شاق ہوتی ہے
اگلتی ہیں مشینیں آگ سورج مسکراتا ہے
طیور زمزمہ پرداز کی پہچان ہوتی ہے
وہ طائر کیا جو آوازوں سے آوازیں ملاتا ہے
اسی پر جان دیتے ہیں جسے بے مہر کہتے ہیں
جو ہم کو بھول جاتا ہے وہ اکثر یاد آتا ہے
غزل
نہ جانے روزن دیوار کیا جادو جگاتا ہے
سید امین اشرف

