EN हिंदी
نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا | شیح شیری
na jaane jae kahan tak ye silsila dil ka

غزل

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا

سید امین اشرف

;

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا
وہ مل بھی جائے تو ملتا نہیں صلہ دل کا

برس رہی تھیں بہاریں ترس رہی تھی زمیں
سفر تمام ہوا پھول کب کھلا دل کا

کہاں ہے وہ شہ خوبی کہاں دریچۂ شب
گئے وہ دن کہ سماعت میں تھا گلہ دل کا

وہی خرابیٔ جاں کا سبب بھی ہے لیکن
قرار جاں ہے کہ یہ ہے معاملہ دل کا

اسے فسوں گر و بے مہر میں نہیں کہتا
فراق یار کا باعث ہے فاصلہ دل کا

تلاش اسی کی مسلسل اسی کو پا کر بھی
زمیں سے تا بہ فلک ہے یہ مشغلہ دل کا

کسی طلسم حجابات میں کوئی غم ہے
بھٹک رہا ہے خیالوں میں قافلہ دل کا