نہ غم دل نہ فکر جاں ہے یاد
ایک تیری ہی بر زباں ہے یاد
تھا جو کچھ وعدۂ وفا ہم سے
کچھ بھی وہ تم کو مہرباں ہے یاد
اگلے ملنے کی طرح بھول گئے
کیا بتاؤں تمہیں کہاں ہے یاد
ہوں میں پابند الفت صیاد
کب مجھے باغ و بوستاں ہے یاد
محو تیرے ہی رو و زلف کے ہیں
نہ ہمیں وہ نہ یہ جہاں ہے یاد
دیدہ و دل میں تو ہی بستا ہے
تجھ سوا کس کی اور یاں ہے یاد
اور کچھ آرزو نہیں بیدارؔ
ایک اس کی ہی جاوداں ہے یاد
غزل
نہ غم دل نہ فکر جاں ہے یاد
میر محمدی بیدار

