نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا
مرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگا
جب نمایاں وہ سوار رہ منزل ہوگا
نہ تو میں آپ میں ہوں گا نہ مرا دل ہوگا
آدھی رات آ گئی بس بس دل بے تاب سنبھل
ہم سمجھتے ہیں جو اس کرب کا حاصل ہوگا
رخصت اے وحشت تنہائی و غربت رخصت
خوف ہی کیا ہے جو ہم راہ مرے دل ہوگا
رات کا خواب نہیں جس کی ہر اک دے تعبیر
یہ وہ ارمان ہے پورا جو بہ مشکل ہوگا
تیرا کیا ذکر ہے زنداں کی ہلے گی دیوار
نالہ کش جب کوئی پابند سلاسل ہوگا
ٹال دیں میں نے یہ کہہ کہہ کے ضدیں بچپن کی
آئنہ بھی کوئی شے ہے جو مقابل ہوگا
ڈوبنے جائے گا شاید کوئی مایوس وصال
مجمع عام سنا ہے لب ساحل ہوگا
چودھواں سال اسے دیتا ہے مژدہ عالمؔ
لے مبارک ہو کہ اب تو مہ کامل ہوگا
غزل
نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا
میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

