EN हिंदी
نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے | شیح شیری
na aaina hi us surat ke aage hakka-bakka hai

غزل

نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے

عشق اورنگ آبادی

;

نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے
سیاہی دیکھ اس کے خط کے مد کی دل میں لکا ہے

ہوا انساں نمایاں نور ذات پاک وحدت سے
کہ جیوں خورشید کے پرتو سے ذرے میں جھمکا ہے

ہوا اخبار سے ثابت ثواب حج اکبر ہے
زیارت کر لے اے غافل دل آگاہ مکہ ہے

بچا نیں کوئی اس ظالم کے جور چشم و مژگاں سے
وہاں آئینہ بھی شان عسل کا سا شبکا ہے

جھکا کر ایک میں سر نام اپنا کر دیا روشن
فنون عشق میں کم کوئی پروانہ سا پکا ہے

موالیٔ علی کا ہے بخیر انجام بوجھ اے عشقؔ
خدا حافظ ترا دوزخ بھی اک شرعیٔ دکا ہے