مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت
پھیر کر کلائی کو بار بار دیکھے وقت
بارہا یہ سوچا ہے گھر سے آج چلتے وقت
حادثہ نہ ہو جائے راہ سے گزرتے وقت
کوئی بھی نہیں پہنچا آگ سے بچانے کو
میں تھا اور تنہائی اپنے گھر میں جلتے وقت
اس قدر اندھیرا تھا اس قدر تھا سناٹا
چاندنی بھی ڈرتی تھی گاؤں میں بکھرتے وقت
میں تو خیر نادم تھا اس لیے بھی چپ چپ تھا
وہ بھی کچھ نہیں بولا راستہ بدلتے وقت
وہ وصال دو پل کا بھولتا نہیں شاہد
میں نے اس کو چوما تھا سیڑھیاں اترتے وقت

غزل
مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت
شاہد فرید