مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا
یہ دود دل سوختہ افلاک کو پہنچا
پیغام زبانی تو نصیبوں میں کہاں تھا
نامہ بھی نہ تیرا ترے غم ناک کو پہنچا
صد چاک کیا پیرہن گل کو صبا نے
جب وہ نہ تری خوبیٔ پوشاک کو پہنچا
صحرا میں ہوسؔ خار مغیلاں کی مدد سے
بارے مرا خوں ہر خس و خاشاک کو پہنچا
غزل
مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا
مرزا محمد تقی ہوسؔ

