EN हिंदी
مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا | شیح شیری
muzhda ye saba us but-e-be-bak ko pahuncha

غزل

مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا

مرزا محمد تقی ہوسؔ

;

مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا
یہ دود دل سوختہ افلاک کو پہنچا

پیغام زبانی تو نصیبوں میں کہاں تھا
نامہ بھی نہ تیرا ترے غم ناک کو پہنچا

صد چاک کیا پیرہن گل کو صبا نے
جب وہ نہ تری خوبیٔ پوشاک کو پہنچا

صحرا میں ہوسؔ خار مغیلاں کی مدد سے
بارے مرا خوں ہر خس و خاشاک کو پہنچا