EN हिंदी
موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گا | شیح شیری
musa samjhe the arman nikal jaega

غزل

موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گا

قمر جلالوی

;

موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گا
یہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گا

میری بالیں پہ رونے سے کیا فائدہ
کیا مری موت کا وقت ٹل جائے گا

کیا عیادت کو اس وقت آؤ گے تم
جب ہمارا جنازہ نکل جائے گا

کم سنی میں ہی کہتی تھی تیری نظر
تو جواں ہو کے آنکھیں بدل جائے گا

سب کو دنیا سے جانا ہے اک دن قمرؔ
رہ گیا آج کوئی تو کل جائے گا