EN हिंदी
مسلسل ہنس رہا ہوں گا رہا ہوں | شیح شیری
musalsal hans raha hun ga raha hun

غزل

مسلسل ہنس رہا ہوں گا رہا ہوں

عزم شاکری

;

مسلسل ہنس رہا ہوں گا رہا ہوں
تری یادوں سے دل بہلا رہا ہوں

تری یادوں کی بیلیں جل گئیں سب
میں پھولوں کی طرح مرجھا رہا ہوں

اے میری وحشتو صحرا کی جانب
مجھے آواز دو میں آ رہا ہوں

کنارے میری جانب بڑھ رہے ہیں
مگر میں ہوں کہ ڈوبا جا رہا ہوں

یہاں جھوٹوں کے تمغے مل رہے ہیں
میں سچا ہوں تو پرکھا جا رہا ہوں