EN हिंदी
مقابلہ ہو تو سینے پہ وار کرتا ہے | شیح شیری
muqabla ho to sine pe war karta hai

غزل

مقابلہ ہو تو سینے پہ وار کرتا ہے

خالد ؔمحمود

;

مقابلہ ہو تو سینے پہ وار کرتا ہے
وہ دشمنی بھی بڑی پروقار کرتا ہے

جو ہو سکے تو اسے مجھ سے دور ہی رکھئے
وہ شخص مجھ پہ بڑا اعتبار کرتا ہے

نگر میں اس کی بہت دشمنی کے چرچے ہیں
مگر وہ پیار بھی دیوانہ وار کرتا ہے

میں جس خیال سے دامن کشیدہ رہتا ہوں
وہی خیال مرا انتظار کرتا ہے

شکایتیں اسے جب دوستوں سے ہوتی ہے
تو دوستوں میں ہمیں بھی شمار کرتا ہے