EN हिंदी
منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو | شیح شیری
muntashir zehn ki sochon ko ikaTTha kar do

غزل

منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو

قیصر الجعفری

;

منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو
تم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دو

در و دیوار پہ پڑھتا رہوں نوحہ کل کا
اس اجالے سے تو بہتر ہے اندھیرا کر دو

اے مرے غم کی چٹانو کبھی مل کر ٹوٹو
اس قدر زور سے چیخو مجھے بہرا کر دو

جا رہے ہو تو مرے خواب بھی لیتے جاؤ
دل اجاڑا ہے تو آنکھوں کو بھی صحرا کر دو

کچھ نہیں ہے تو یہ پندار جنوں ہے کیسر
تم کو مل جائے گریباں تو تماشا کر دو