ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو
مسند ہو کہ اس میں بوریا ہو
جب قابل دید دل ربا ہو
اللہ کرے کہ با وفا ہو
بھیجا نہیں خط شوق کب سے
معلوم ہوا کہ تم خفا ہو
بے تابئ دل اگر دکھاؤں
کوئی نہ کسی کا مبتلا ہو
مرتا ہے زر پہ اہل دنیا
نامرد کو کب خواہش طلا ہو
مٹی کر دے جو آپ کو تو
نظروں میں خاک کیمیا ہو
آئی ہے فصل گل چمن میں
اے ہوش و خرد چلو ہوا ہو
کیا مجھے در بدر پھرایا
اے خواہش دل ترا برا ہو
دکھلائی تو نے یار کی شکل
اے جذبۂ دل ترا بھلا ہو
لپٹو مجھے آ کے ہجر کی شب
اے گیسوئے یار اگر بلا ہو
اے منتہیؔ بزم یار کا حال
کیا جانئے بعد میرے کیا ہو
غزل
ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو
مرزا مسیتابیگ منتہی

