EN हिंदी
مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا | شیح شیری
mujhe to yun bhi isi rah se guzarna tha

غزل

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا

پرکاش فکری

;

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا
دل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھا

مری نوا سے تری نیند بھی سلگ اٹھتی
ذرا سا اس میں شراروں کا رنگ بھرنا تھا

سلگتی ریت پہ یادوں کے نقش کیوں چھوڑے
تجھے بھی گہرے سمندر میں جب اترنا تھا

ملا نہ مجھ کو کسی سے خراج اشکوں میں
ہوا کے ہاتھوں مجھے اور کچھ بکھرنا تھا

اسی پہ داغ ہزیمت کے لگ گئے دیکھو
یقیں کی آگ سے جس شکل کو نکھرنا تھا

میں کھنڈروں میں اسے ڈھونڈتا پھرا فکریؔ
مگر کہاں تھا وہ آسیب جس سے ڈرنا تھا