EN हिंदी
مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن | شیح شیری
mujh sin aur dilruba sin hai an-ban

غزل

مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن

عبدالوہاب یکروؔ

;

مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن
کیا کروں فن کچھ آوتی نہیں بن

کچھ نہیں آتی سرو قد سیں بن
پھرتا ہوں گرد باد جیوں بن بن

زلف تیری سیاہ ناگن ہے
چھین لیتی ہے ہر کسی کا من

درس سیں علم کے ہے دل بیزار
خوب رویاں کا خوب ہے درشن

مجھ کوں واعظ نکو نصیحت کر
یار جس سیں ملے بتاؤ فن

یک سو یکروؔ کا ہاتھ پہنچتا نہیں
کیونکے پکڑے گا یار کا دامن