EN हिंदी
مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے | شیح شیری
mujhse muDne ki nin kisi ru se

غزل

مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے
چشم رکھتا ہوں تیری ابرو سے

اب تو بیٹھا میں نقش پا کی طرح
کوئی اٹھتا ہے یار کی کو سے

حسن سیرت ہے لازم محبوب
خوبی‌ٔ گل ہے خوبیٔ بو سے

عشق میں درد سے ہے حرمت دل
چشم کو آبرو ہے آنسو سے