EN हिंदी
مجھ پاس کبھی وو قد‌ شمشاد نہ آیا | شیح شیری
mujh pas kabhi wo qad-e-shamshad na aaya

غزل

مجھ پاس کبھی وو قد‌ شمشاد نہ آیا

فائز دہلوی

;

مجھ پاس کبھی وو قد‌ شمشاد نہ آیا
اس گھر منے وو دل بر استاد نہ آیا

گلشن مری انکھیاں میں لگے گلخن دوزخ
جو سیر کو مجھ ساتھ پری زاد نہ آیا

سانجھ آئی دیو دن بی ہوا فکر میں آخر
وو دل بر جادو گر و صیاد نہ آیا

آیا نہ ہمن پاس کیا وعدہ خلافی
فائزؔ کا کچھ احوال مگر یاد نہ آیا