EN हिंदी
مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں | شیح شیری
mujhko jo kahte ho myan tum ho kahan tum ho kahan

غزل

مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں

رضا عظیم آبادی

;

مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں
دل کہاں ہے پاس میرے میری جاں تم ہو کہاں

وہ گلی ہے یا پری خانہ ہے یا فردوس ہے
سچ کہو اے ہمدمو میں ہوں کہاں تم ہو کہاں

اپنے سے اپنا نہ ہو کام اوروں سے رکھیے امید
کیا وصیت کرتے ہو اے دوستاں تم ہو کہاں

گل کھلیں گے بار بار اور آئے گی ہر پھر بہار
ہے ہمیشہ سیر گل زار جہاں تم ہو کہاں

جب جوانی گئی رہا کیا آنا جانا سب گیا
آؤ جانے دو وو باتیں اے میاں تم ہو کہاں

دیکھنے کا چاؤ یہ عینک اترتی ہی نہیں
دیکھو تم اپنی طرف اے مہرباں تم ہو کہاں

پوچھتے ہیں حال تو منہ دیکھ رہتے ہو رضاؔ
دل کہیں اور ہی ہے سنتے ہو میاں تم ہو کہاں