مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں
دل کہاں ہے پاس میرے میری جاں تم ہو کہاں
وہ گلی ہے یا پری خانہ ہے یا فردوس ہے
سچ کہو اے ہمدمو میں ہوں کہاں تم ہو کہاں
اپنے سے اپنا نہ ہو کام اوروں سے رکھیے امید
کیا وصیت کرتے ہو اے دوستاں تم ہو کہاں
گل کھلیں گے بار بار اور آئے گی ہر پھر بہار
ہے ہمیشہ سیر گل زار جہاں تم ہو کہاں
جب جوانی گئی رہا کیا آنا جانا سب گیا
آؤ جانے دو وو باتیں اے میاں تم ہو کہاں
دیکھنے کا چاؤ یہ عینک اترتی ہی نہیں
دیکھو تم اپنی طرف اے مہرباں تم ہو کہاں
پوچھتے ہیں حال تو منہ دیکھ رہتے ہو رضاؔ
دل کہیں اور ہی ہے سنتے ہو میاں تم ہو کہاں
غزل
مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں
رضا عظیم آبادی

