EN हिंदी
مدت سے ہے لباس بدن تار تار دوست | شیح شیری
muddat se hai libas-e-badan tar tar dost

غزل

مدت سے ہے لباس بدن تار تار دوست

جمیلؔ مظہری

;

مدت سے ہے لباس بدن تار تار دوست
میلا بھی ہے اتار اب اس کو اتار دوست

بخیے کی اب جگہ ہے نہ پیوند کی جگہ
کیا سی رہے ہیں اس کو ترے غم گسار دوست

تھا جس میں زندگی کا گماں وہ تو جا چکی
یہ زندگی ہے اس کے قدم کا غبار دوست

جو زندگی تھی لغزش پیہم کا سلسلہ
ہے جنبش خفیف اسے ناگوار دوست

آگے جو جا چکا ہے وہ ہر لمحۂ حیات
تجھ کو پکارتا ہے سن اس کی پکار دوست

حالات نے جو لاد دیا تیری پیٹھ پر
گردن جھٹک کے پھینک دے جلدی وہ بار دوست

تھی زندگی خدا کا غضب اور مظہریؔ
موت اک خدا کا پیار ہے لے اس کا پیار دوست