EN हिंदी
مبتلا روح کے عذاب میں ہوں (ردیف .. ی) | شیح شیری
mubtala ruh ke azab mein hun

غزل

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں (ردیف .. ی)

شاہد عشقی

;

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں
کب سے دل کو کھرچ رہا ہے کوئی

جانے کس صبح کی تمنا میں
رات بھر شمع ساں جلا ہے کوئی

فرصت زندگی بہت کم ہے
اور بہت دیر آشنا ہے کوئی

تم بھی سچے ہو میں بھی سچا ہوں
کب یہاں جھوٹ بولتا ہے کوئی