EN हिंदी
محبت سے تری یادیں جگا کر سو رہا ہوں | شیح شیری
mohabbat se teri yaaden jaga kar so raha hun

غزل

محبت سے تری یادیں جگا کر سو رہا ہوں

شہنواز زیدی

;

محبت سے تری یادیں جگا کر سو رہا ہوں
میں آدھی رات کو خوشبو لگا کر سو رہا ہوں

سنا ہے جب سے تو نے رات آنکھوں میں بسر کی
میں بستر کی جگہ کانٹے بچھا کر سو رہا ہوں

میں دریا ہوں مری گہرائی پوشیدہ ہے مجھ میں
گرفت خاک سے دامن چھڑا کر سو رہا ہوں

وہ گھر میں ہے مگر کہتا ہے کوئی گھر نہیں ہے
تو میں بھی آج ویرانے میں جا کر سو رہا ہوں

نہیں ہے دسترس میں اب زمیں کا کوئی ٹکڑا
سو میں کاغذ پہ اپنا گھر بنا کر سو رہا ہوں

وہ خواہش جس کو سینے سے ابھی لپٹا رہا تھا
اسی کو اپنے پہلو سے ہٹا کر سو رہا ہوں